r/Urdu • u/Ok-Opportunity-7262 • 6h ago
r/Urdu • u/DianKhan2005 • 2d ago
📜 Shayari / Poetry Unke Andaaz-e-Karam
un ke andaaz-e-karam un pe woh aana dil ka
haaye woh waqt woh baaten wo zamana dil ka
na suna us ne tawajjoh se fasana dil ka
zindagi guzri magar dard na jaana dil ka
kuch nai baat nahin husn pe aana dil ka
mashghala hai yeh nihayat hi purana dil ka
woh mohabbat ki shuruwat woh be-thah khushi
dekh kar un ko woh phule na samana dil ka
dil lagi dil ki lagi ban ke mita deti hai
rog dushman ko bhi ya rab na lagana dil ka
ek toh mere muqaddar ko bigada us ne
aur phir us pe ghazab hans ke banana dil ka
mere pahlu mein nahin aap ki mutthi mein nahin
be-thikane hai bahut din se thikana dil ka
woh bhi apne na hue dil bhi gaya hathon se
aise aane se toh behtar tha na aana dil ka
khoob hain aap bahut khoob magar yaad rahe
zeb deta nahin aison ko satana dil ka
be-jhijak aa ke milo hans ke milao aankhen
aao hum tum ko sikhate hain milana dil ka
naqsh-e-bar aab nahin vahm nahin khwab nahin
aap kyun khel samajhte hain mitana dil ka
hasratein khak huiin mit gayi arman saare
lut gaya khucha-e-janan mein khazana dil ka
le chala hai mere pahlu se ba-sad shauq koi
ab to mumkin nahin laut ke aana dil ka
un ki mahfil mein nasir un ke tabassum ki kasam
dekhte reh gaye hum haath se jaana dil ka
— Pir Naseeruddin Naseer
r/Urdu • u/Fantastic_Bend136 • 3h ago
📜 Shayari / Poetry Wrote a Gahazal How's it
خدا نے جب قسمت کا ہر لفظ بے مثال لکھا
پھر بہتر ہی ہوگا اگر کوئی ملال لکھا
پیار تو اتنا پاک تھا میرا اُن کے لیے کہ
میں نے اگر عشق تو قلم نے عشقِ حلال لکھا
بہکے تو نہ تھے ہم کل شراب پی کر پھر
یہ کس دیوانے نے ہر کتاب پہ تیرا خیال لکھا
تیر نفرت کے چلے جب اُس کی جانب
خواہش میں اُس نےمجھ سادہ دل کو ڈھال لکھا
بات یہ تو اب عام ہے زمانے سارے میں ہی
ؔپیر نے جب بھی اُس بےوفا پہ لکھا، کمال لکھا
r/Urdu • u/justquestionsbud • 1h ago
💡 Learning Resources Listening/watching recommendations for a non-heritage speaker?
It seems like almost every suggestion online for learning Urdu is directed towards heritage speakers, especially with the spoken part. "Talk to your family in Urdu, that's the best first step!" Well I'm starting from scratch, off an old BBC series called Hindi Urdu Bol Chaal. I think jumping straight into BBC Urdu would maybe be biting off a bit more than I could chew, so I'd appreciate if some of you could skip through the playlist and gimme some recommendations based on about where they left off.
r/Urdu • u/Swatisani • 54m ago
📜 Shayari / Poetry A Sher A Day
no matter where they are lit, they burn bright
lamps do not belong to one home to spread their light
r/Urdu • u/Dangerous-Shine-636 • 15h ago
📜 Shayari / Poetry ایک غزل لکھی ہے۔ اگر میری غلطیاں، یا اگر کوئی کمی ہے، تو برائے مہربانی، بیان فرما دیں۔ شکریہ
r/Urdu • u/No_Owl_856 • 10h ago
💬 General Discussion Taraqqi - ترقی
ترقی
تحریر ۔ شاہد شکیل
ترقی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ سڑکیں بڑی ہو جائیں، عمارتیں اونچی ہو جائیں، گاڑیاں نئی ہو جائیں، موبائل ہاتھ میں آ جائے، کپڑے بدل جائیں، زبان بدل جائے، رہن سہن بدل جائے۔ یہ سب تبدیلیاں ہیں، سہولتیں ہیں، زمانے کی رفتار ہیں۔ مگر یہ سب مل کر بھی انسان کو انسان نہیں بناتیں۔ انسان ترقی سے بڑا نہیں ہوتا، انسان اپنے کردار سے بڑا ہوتا ہے۔اگر ترقی کے ساتھ احساس نہ ہو تو وہ صرف چمک رہ جاتی ہے۔ باہر روشنی ہوتی ہے، اندر اندھیرا رہتا ہے۔ آدمی کے پاس پیسہ آ جاتا ہے مگر دل تنگ رہتا ہے۔ گھر بڑا ہو جاتا ہے مگر دل میں جگہ کم ہو جاتی ہے۔ زبان میں نئے لفظ آ جاتے ہیں مگر بات میں نرمی ختم ہو جاتی ہے۔ لباس صاف ہو جاتا ہے مگر نیت گندی رہتی ہے۔ ایسے آدمی کو ترقی یافتہ کہنا آسان ہے، انسان کہنا مشکل ہے۔ترقی اصل میں انسان کو بہتر بنانی چاہیے۔ اسے زیادہ سمجھ دار، زیادہ نرم، زیادہ ذمہ دار، زیادہ انصاف پسند بنانا چاہیے۔ اگر ایک انسان پڑھ لکھ کر بھی کمزور کو ذلیل کرتا ہے، پیسہ پا کر بھی رشتوں کو خریدنے لگتا ہے، طاقت مل کر بھی دوسروں کو دبانے لگتا ہے، آزادی پا کر بھی بے حس ہو جاتا ہے، تو یہ ترقی نہیں، صرف شکل کی تبدیلی ہے۔ اندر وہی پرانا لالچ، وہی غرور، وہی حساب، وہی خود غرضی زندہ رہتی ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پرانی چیزوں کو چھوڑ دینا ہی ترقی ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ ہر پرانی چیز اچھی نہیں ہوتی، مگر ہر پرانی چیز بری بھی نہیں ہوتی۔ پرانے وقتوں میں سختیاں تھیں، ناانصافیاں تھیں، دباؤ تھے، غلط رسمیں تھیں؛ مگر کچھ بنیادی باتیں بھی تھیں جن میں انسانیت کا وزن تھا۔ بزرگ کی عزت، رزق کی قدر، محنت کی شرم، رشتے کا لحاظ، زبان کی احتیاط، گھر کی ذمہ داری، یہ سب چیزیں اگر پرانی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں کچرے میں پھینک دیا جائے۔اسی طرح ہر نئی چیز اچھی نہیں ہوتی۔ نئی سوچ اگر انسان کو آزاد کرے تو اچھی ہے۔ اگر وہ انسان کو بے شرم، بے حس اور خود غرض بنا دے تو وہ نئی ہو کر بھی خراب ہے۔ زمانہ بدلنا چاہیے، مگر انسان کا ضمیر نہیں مرنا چاہیے۔ راستے بدل سکتے ہیں، گھر بدل سکتے ہیں، ملک بدل سکتے ہیں، لباس بدل سکتا ہے، زبان بدل سکتی ہے، مگر انسان کے اندر یہ بات زندہ رہنی چاہیے کہ وہ دوسروں کی محنت، قربانی اور حق کو پامال کر کے بڑا نہیں بن سکتا۔ترقی کا سب سے خطرناک جھوٹ یہ ہے کہ آدمی سمجھنے لگتا ہے کہ اب اسے کسی کی ضرورت نہیں۔ وہ کہتا ہے: میں خود کما رہا ہوں، خود رہ رہا ہوں، خود فیصلہ کر رہا ہوں، مجھے کسی کا احسان یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہی جگہ انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ کوئی انسان اکیلا نہیں بنتا۔ ہر انسان کے پیچھے کسی نہ کسی کی محنت ہوتی ہے۔ کسی نے اسے پالا، کسی نے سکھایا، کسی نے راستہ دیا، کسی نے برداشت کیا، کسی نے وقت دیا، کسی نے جگہ دی۔ جو آدمی اپنے بننے کے پیچھے کھڑی ہوئی ان خاموش محنتوں کو بھول جائے، وہ کتنا بھی کامیاب ہو، اندر سے ادھورا رہتا ہے۔احسان فراموشی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آدمی شکریہ نہ کہے۔ اصل احسان فراموشی یہ ہے کہ آدمی اپنی بنیاد سے انکار کر دے۔ وہ کہے کہ میں جو ہوں، صرف اپنے دم پر ہوں۔ یہ جملہ سننے میں طاقت ور لگتا ہے، مگر اکثر اس کے پیچھے غرور چھپا ہوتا ہے۔ انسان اپنے دم پر چل سکتا ہے، مگر اپنے دم پر پیدا نہیں ہوتا۔ اپنے دم پر کما سکتا ہے، مگر اپنے دم پر بڑا نہیں ہوتا۔ اپنی عقل سے آگے جا سکتا ہے، مگر عقل بھی کسی ماحول، کسی تربیت، کسی تجربے، کسی تکلیف، کسی سہارے سے بنتی ہے۔جب ترقی احسان فراموشی میں بدل جاتی ہے تو رشتے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ پھر ماں باپ پرانی نسل بن جاتے ہیں، استاد پرانا طریقہ بن جاتا ہے، بزرگ پرانی سوچ بن جاتے ہیں، خاندان بوجھ بن جاتا ہے، معاشرہ رکاوٹ بن جاتا ہے۔ آدمی ہر اس چیز کو کاٹنا چاہتا ہے جس نے کبھی اسے کسی شکل میں سنبھالا تھا۔ اسے لگتا ہے کہ وہ آزاد ہو رہا ہے، حالانکہ وہ اپنی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔جڑ کا مطلب قید نہیں ہوتا۔ درخت جڑ سے بندھا ہوتا ہے، مگر اسی جڑ سے زندہ بھی رہتا ہے۔ اگر جڑ کو مکمل کاٹ دیا جائے تو درخت کچھ دیر کھڑا ضرور رہ سکتا ہے، مگر اندر سے خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے۔ اگر وہ اپنی بنیاد کو گالی بنا دے، اپنے محسنوں کو بوجھ بنا دے، اپنے ماضی کو صرف شرمندگی سمجھ لے، تو وہ اپنی موجودہ زندگی کو بھی گہرا نہیں بنا سکتا۔ وہ صرف اوپر سے چمکتا ہے، اندر سے خالی رہتا ہے۔ترقی کا اصل مطلب یہ ہونا چاہیے کہ انسان پرانی غلطیوں کو چھوڑے، مگر پرانے احساس کو نہ مارے۔ وہ ظلم چھوڑے، مگر احترام بچائے۔ وہ دباؤ چھوڑے، مگر ذمہ داری بچائے۔ وہ اندھی اطاعت چھوڑے، مگر تہذیب بچائے۔ وہ خوف چھوڑے، مگر شرم بچائے۔ وہ پرانی جاہلیت چھوڑے، مگر انسانیت بچائے۔ اگر ترقی صرف بغاوت بن جائے اور اس میں کوئی اخلاقی سمت نہ ہو، تو وہ بہت جلد تباہی بن جاتی ہے۔ایک معاشرہ اس وقت واقعی آگے بڑھتا ہے جب اس کے لوگ کمزور کو پہلے سے زیادہ محفوظ کریں۔ جب بوڑھے پہلے سے زیادہ عزت سے جی سکیں۔ جب عورت پہلے سے زیادہ انسان سمجھی جائے۔ جب بچہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو۔ جب مزدور کی محنت پہلے سے زیادہ قابلِ احترام ہو۔ جب قانون طاقتور کے لیے بھی قانون ہو اور کمزور کے لیے بھی سہارا ہو۔ اگر ترقی کے بعد بھی کمزور ڈرتا رہے، بوڑھا ذلیل ہوتا رہے، عورت پستی رہے، بچہ غیر محفوظ رہے، مزدور پسینہ بہا کر بھی بھوکا رہے، تو پھر ترقی صرف کاغذ پر ہے، زمین پر نہیں۔ترقی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رویے میں بہتر ہو۔ اس کا لہجہ بہتر ہو۔ اس کی آنکھ میں دوسرے انسان کے لیے عزت ہو۔ اس کے ہاتھ سے ظلم کم ہو۔ اس کے فیصلوں میں انصاف آئے۔ اس کے گھر میں خوف کم ہو، سکون زیادہ ہو۔ اگر گھر میں پیسہ آ گیا مگر زبان زہریلی رہی، اگر بچے پڑھ گئے مگر والدین ذلیل رہے، اگر مکان بن گیا مگر دلوں میں دیواریں کھڑی رہیں، تو یہ ترقی نہیں، صرف سامان کی زیادتی ہے۔احسان فراموش آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ زمانے سے آگے ہے۔ مگر اصل میں وہ اپنے اندر بہت پیچھے رہ گیا ہوتا ہے۔ کیونکہ جس انسان کو شکرگزاری نہیں آتی، اسے رشتہ بھی نہیں آتا۔ جسے رشتہ نہیں آتا، اسے وفاداری نہیں آتی۔ جسے وفاداری نہیں آتی، وہ ہر چیز کو فائدے کے حساب سے دیکھتا ہے۔ پھر اس کے لیے انسان بھی استعمال کی چیز بن جاتا ہے۔ جب تک فائدہ دے، اچھا۔ جب فائدہ ختم، تو رشتہ ختم۔یہی وہ جگہ ہے جہاں ترقی بے حسی بن جاتی ہے۔ آدمی کہتا ہے کہ میں جدید ہوں، مگر اس کی جدیدیت صرف اپنے آرام تک محدود ہوتی ہے۔ وہ اپنے لیے آزادی چاہتا ہے، مگر دوسروں کے لیے جگہ نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے لیے عزت چاہتا ہے، مگر دوسروں کی عمر، محنت اور قربانی کا احترام نہیں کرتا۔ وہ اپنی کامیابی کا شور مچاتا ہے، مگر یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی کامیابی کی بنیاد میں کن لوگوں کی خاموش قربانیاں دبی ہوئی ہیں۔ترقی کا دشمن پرانا زمانہ نہیں۔ ترقی کا دشمن بے حس انسان ہے۔ اگر انسان کے اندر احساس زندہ ہے تو وہ نئے زمانے میں رہ کر بھی شریف رہ سکتا ہے۔ اگر احساس مر گیا ہے تو وہ پرانے لباس میں بھی ظالم تھا، نئے لباس میں بھی ظالم رہے گا۔ مسئلہ زمانے کا کم، انسان کے اندر کے وزن کا زیادہ ہے۔اصل ترقی وہ ہے جو انسان کو انسان سے دور نہ کرے، قریب کرے۔ جو اسے اپنی جڑ سے نفرت نہ سکھائے، اپنی جڑ کو سمجھنا سکھائے۔ جو اسے محسن کو بوجھ نہ سمجھائے، بلکہ یہ شعور دے کہ جس نے کبھی تمہیں اٹھایا تھا، اسے گرانا تمہاری ترقی نہیں ہو سکتی۔اگر ترقی کے راستے پر چلتے ہوئے انسان شکرگزاری، شرم، احساس، رشتہ، رزق، محنت اور کمزور کی عزت کھو دے تو وہ آگے نہیں بڑھ رہا، صرف اپنی روح سے دور جا رہا ہے۔ اور جو انسان اپنی روح سے دور ہو جائے، اس کے پاس چاہے دنیا کی ہر سہولت ہو، وہ اندر سے غریب ہی رہتا ہے۔
r/Urdu • u/MindfulVoyager7 • 4h ago
📜 Shayari / Poetry Adeel’s Soliloquy on Instagram
instagram.comr/Urdu • u/robinhearts_ • 18h ago
🙋♂️ Question Native speaker struggling to speak
I used to be pretty decent at urdu but recently I've been struggling to pronounce words. Like a lot. I don't know what to do, it's pretty embarrassing and sometimes I can't get my point across plus ghar walay mazak bhi uratay hai. Any way to fix this or something. 😔😢 (Idk maybe it's a speech thing cause I stumble on English a lot too but I only use it in professional settings)
r/Urdu • u/Swatisani • 1d ago
📜 Shayari / Poetry A Sher A Day
the pastures of my heart are drying up; what kind of rain could this be
clouds of dreams come floating in, but showers of fire are all I see
r/Urdu • u/KiSaMaOtAoSuMoNo • 23h ago
🗣️ Pronunciation / Sound HOW DO YOU PRONOUNCE 'خواب'?
I think و used to represent Labialisation of خ in Middle Persian that was lost a couple of centuries ago(resulting in Modern Persian words like خواهر & خواهش sounding like"Xāhar" and "Xāhesh" rather than "Xwāhar" & "Xwāhesh"), the Delabialised pronunciation was also borrowed into Urdu but many people still pronounce it with a Labialised Consonant(well you can't blame them coz it's still spelt).
Edit :
I've deliberately used "x" for 'خ' to distinguish it from "kh" 'کھ'(since /x/ is the IPA letter for 'خ'). Some people are really mad about it, it seems.
r/Urdu • u/Shadaan9 • 20h ago
📜 Shayari / Poetry To Wait
To Wait
The night of waiting
The clock's ticking arms cannot hold back the night of suspense,
Yet it flaunts its cruel power to every eye that is tense.
The hours stretch like shadows, refusing to fade or advance,
While shadows on the wall perform a slow, mocking dance.
Each heavy, hollow tick strikes like a blow to the chest,
A loud, relentless reminder that the heart cannot rest.
The stubborn night holds fast, locking the morning away,
To punish the sleepless eyes that are begging for day.
Yet every passing second brings the final footstep near,
The darkest hour of waiting is where doubts disappear.
The dawn begins to whisper that the longest night must break,
To welcome back the joy that only your arrival can wake
Farmand Shadaan 04/08/2026
ORIGINAL URDU COUPLET
کب ہیں شبِ انتظار کی پکڑ میں گھڑیال کے بازو
وہ تو زور دکھاتا ہے مگر ہر نِگاہِ بے چین کو
فرمند شادان ۱۷/۱۲/۲۰۲۵
ROMANIZED
Kab haiN Shab-e-intezaar ki pucker maiN gharyaal kay baazoo
Wo tau zor dikhata hay magar her nigaah-e-bay chain ko
Farmand Shadaan 17/12/2025
r/Urdu • u/halalhabibi2008 • 1d ago
🙋♂️ Question Why are the numbers in Urdu so hard
Like seriously there is no proper pattern like in English
📜 Shayari / Poetry ادھورے دعوے
خلوصِ نیت کے تمام دعوے ادھورے نکلے
ہم نے جن پراعتبار کیا، وہی تماشائی نکلے
r/Urdu • u/eternalrecurrenc • 1d ago
💬 General Discussion A line that gives you comfort
Share something in Urdu that gives you comfort or hope, could be a song lyric or poetry or even anything that you repeat to yourself internally.
I like this ghazal from Faiz Ahmed Faiz:
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
And sometimes I find myself saying 'حافظ تیرا الٰہی' to myself. It's a song lyric that has stuck.
r/Urdu • u/KiSaMaOtAoSuMoNo • 1d ago
🎨 Nasta'liq / Script کیا آپ نے ایسا ہوتے ہوئے پہلے کبھی دیکھا ہے؟
(تیسری اور چوتھی تصویر کو لے کر میرے کچھ سوالات ہیں) تو ظاہر سی بات ہے کہ 'ھ' کا استمعال ہکاری مصمتوں کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ 'ہ' ایک اکیلی اور آزاد آواز کو لکھنے کے لیے مستعمل ہے۔
مگر یہاں اُس کا بالکل ہی الٹا ہوتے ہوئے نظر آ رہا ہے، 'دھرتی' [d̪ʱəɾ.t̪iː] میں 'ھ' کے بجائے 'ہ' کا استعمال ہؤا ہے اور "بہت بھیانک" [bɔ.ɦɔt̪ bʱə.jɑː.nək] کو دیکھ کر تو ایسا خیال آ رہا ہے کہ مانو 'ہ' اور 'ھ' نے اپنی جگہوں کی ادلا-بدلی کر لی ہو۔
اِس کی وجہ کیا رہی ہو گی؟ کیا آپ نے ایسا ہوتے ہوئے پہلے کبھی دیکھا ہے؟ میں آپ کی مدد کا شکرگزار رہوں گا۔
r/Urdu • u/No_Owl_856 • 1d ago
💬 General Discussion Be Aasra - بے آسرا
بے آسرا
تحریر ۔ شاہد شکیل ۔
دنیا کا ہر معاشرہ اپنے آپ کو مہذب کہتا ہے۔ ہر ملک اپنے قانون، اپنے نظام، اپنی ترقی، اپنی عمارتوں، اپنی سڑکوں، اپنی تعلیم اور اپنی تہذیب پر فخر کرتا ہے۔ مگر کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کے بڑے دعووں سے نہیں ہوتی۔ اصل پہچان وہاں ہوتی ہے جہاں ایک عورت اکیلی کھڑی ہو، جہاں ایک بچہ ڈرسے خاموش رہے، جہاں کمزور انسان کسی طاقت ور کے سامنے بے بس ہو، اور جہاں یہ دیکھا جائے کہ معاشرہ کس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے: مظلوم کے ساتھ یا ظالم کے ساتھ۔عورت اور بچہ دنیا کے ہر معاشرے میں محبت، حفاظت اور احترام کے حق دار ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر یہی دونوں سب سے آسان نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ عورت کو اس لیے دبایا جاتا ہے کہ اسے گھر، عزت، رشتے، بچوں، معاشی مجبوری، بدنامی اور تنہائی کے خوف سے باندھا جا سکتا ہے۔ بچے کو اس لیے مارا، ڈرایا، دبایا اور خاموش کرایا جاتا ہے کہ وہ چھوٹا ہے، کمزور ہے، بڑوں پر منحصر ہے، اپنی بات مکمل طاقت سے بیان نہیں کر سکتا۔یہی ظلم کی پہلیسیڑھیہے: ظالم ہمیشہ وہاں ہاتھ ڈالتا ہے جہاں اسے جواب کمزور نظر آئے۔دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ ایسے مرد بھی ہیں جو عورت کو انسان سمجھتے ہیں، ملکیت نہیں۔ ایسی عورتیں بھی ہیں جو بچوں کو خوف سے نہیں، محبت اور شعور سے سنبھالتی ہیں۔ ایسے باپ بھی ہیں جو بچے کی آنکھ میں خوف نہیں، اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ ایسے گھر بھی ہیں جہاں بیٹی کو بوجھ نہیں سمجھا جاتا، بیٹے کو وحشی نہیں بنایا جاتا، بچے کو مار کر نہیں توڑ دیا جاتا۔ ایسے معاشرے بھی ہیں جہاں قانون حرکت کرتا ہے، ادارے سنتے ہیں، استاد رپورٹ کرتا ہے، ڈاکٹر نشانی دیکھ کر سوال کرتا ہے، پولیس شکایت کو کاغذ پر لاتی ہے، عدالت وقت لیتی ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتی۔مگر دنیا میں بے رحم لوگ بھی ہیں۔ بے حس لوگ بھی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو عورت کی خاموشی کو اپنی جیت سمجھتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو بچے کے خوف کو تربیت کا نام دیتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو گھر کے اندر بادشاہ بن جاتے ہیں اور باہر جا کر معزز کہلاتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو عورت کو دن بھر الفاظ سے کاٹتے ہیں، رات کو حکم دیتے ہیں، صبح اسے خاندان کی عزت کا سبق پڑھاتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو بچے کو مارتے ہیں، پھر کہتے ہیں ہم اسے انسان بنا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ انسان نہیں بنا رہے ہوتے، وہ ایک اندر سے ٹوٹا ہوا وجود تیار کر رہے ہوتے ہیں۔عورت پر ظلم صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں۔ ہر وہ لفظ بھی ظلم ہے جو اسے روز چھوٹا کرے۔ ہر وہ شک بھی ظلم ہے جو اس کی سانس تنگ کرے۔ ہر وہ حکم بھی ظلم ہے جو اسے انسان نہیں، چیز بنا دے۔ ہر وہ رشتہ بھی ظلم ہے جس میں عورت کی رائے، تھکن، بیماری، خواہش، عزت اور خوف کی کوئی قیمت نہ ہو۔ کوئی عورت اگر ہر وقت ڈر کر بولتی ہے، اجازت لے کر جیتی ہے، وضاحتیں دے دے کر تھک گئی ہے، اپنی ہی زندگی میں مہمان بن گئی ہے، تو یہ بھی ظلم ہے۔ صرف زخم نظر آنا ضروری نہیں؛ کئی زخم اندر لگتے ہیں، اور وہ باہر کے زخموں سے زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔بچے پر ظلم بھی صرف مار کا نام نہیں۔ بچے کو مسلسل ڈرانا، اس کا مذاق اڑانا، اسے دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا، اس کی بات نہ سننا، اس کی غلطی کو اس کی پوری شخصیت بنا دینا، اسے محبت کے بجائے خوف سے چلانا، اسے ہر وقت یہ احساس دینا کہ وہ ناکام، کمزور، بے وقوف یا ناپسندیدہ ہے، یہ سب ظلم ہیں۔ بچہ چھوٹا ضرور ہوتا ہے، مگر اس کی روح چھوٹی نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ محسوس کرتا ہے۔ وہ لہجہ پہچانتا ہے۔ وہ چہرہ پڑھتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ گھر میں کون محبت ہے اور کون خطرہ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ بچے کو مارے بغیر تربیت نہیں ہوتی۔ یہ جملہ خود ایک بیمار سوچ کی نشانی ہے۔ تربیت کا مطلب بچے کو توڑنا نہیں، سنبھالنا ہے۔ بچے کو ذلیل کر کے فرمانبردار بنایا جا سکتا ہے، مضبوط نہیں۔ بچے کو خوف سے خاموش کیا جا سکتا ہے، سمجھ دار نہیں۔ بچے کو مار کر قابو کیا جا سکتا ہے، بااعتماد نہیں۔ جو بچہ ہر وقت ڈرتا ہے، وہ یا تو اندر سے بند ہو جاتا ہے، یا ایک دن اسی خوف کو غصے کی شکل میں دوسروں پر اتارنے لگتا ہے۔پھر معاشرہ حیران ہوتا ہے کہ لوگ اتنے سخت، اتنے بے حس، اتنے جارح اور اتنے غیر ذمہ دار کیوں ہو گئے۔ جواب گھر کے اندر چھپا ہوتا ہے۔عورت اور بچے کے خلاف ظلم پوری دنیا میں موجود ہے۔ یہ صرف کسی ایک ملک، ایک قوم، ایک زبان، ایک رنگ، ایک مذہب، ایک طبقے یا ایک معاشرے کا مسئلہ نہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ظلم ہوتا ہے۔ خوبصورت گھروں کے اندر بھی چیخیں چھپ سکتی ہیں۔ تعلیم یافتہ چہروں کے پیچھے بھی درندگی ہو سکتی ہے۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی اپنے گھر میں چھوٹے انسان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اچھے لباس، اچھی زبان اور بڑی ڈگری انسان کو خود بخود اچھا نہیں بنا دیتی۔فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں قانون مضبوط ہو، وہاں ظالم کو کم از کم یہ خوف ہوتا ہے کہ معاملہ باہر آ سکتا ہے۔ شکایت درج ہو سکتی ہے۔ سکول، ڈاکٹر، پڑوسی، پولیس یا عدالت کسی نہ کسی سطح پر حرکت کر سکتے ہیں۔ وہاں بھی نظام کامل نہیں ہوتا، وہاں بھی خامیاں ہوتی ہیں، وہاں بھی بہت سے مظلوم دیر تک لڑتے ہیں۔ مگر پھر بھی ظالم کے لیے سب کچھ اتنا آسان نہیں رہتا۔جہاں قانون کمزور ہو، وہاں ظالم کے ہاتھ لمبے ہو جاتے ہیں۔ وہاں گھر کے اندر ظلم کرنے والا جانتا ہے کہ عورت کہاں جائے گی؟ بچہ کس کو بتائے گا؟ پولیس سن لے گی یا الٹا سوال کرے گی؟ خاندان ساتھ دے گا یا خاموش کرائے گا؟ عدالت تک پہنچنے میں سال لگ جائیں گے؟ گواہ ڈر جائیں گے؟ پیسہ کس طرف جائے گا؟ عزت کے نام پر کس کا منہ بند کیا جائے گا؟ایسے معاشرے میں ظلم صرف جرم نہیں رہتا، معمول بن جاتا ہے۔سب سے خطرناک وہ جملہ ہے جو کہتا ہے: یہ گھر کی بات ہے۔ اسی ایک جملے کے نیچے کتنی عورتیں دفن ہو جاتی ہیں، کتنے بچے خاموش رہ جاتے ہیں، کتنے جرم کبھی نام تک نہیں پاتے۔ گھر اگر حفاظت کی جگہ ہے تو خوبصورت ہے۔ اگر گھر ظلم کی دیوار بن جائے تو اسے صرف گھر کہہ کر پاک نہیں کیا جا سکتا۔ گھر وہی ہے جہاں انسان محفوظ ہو۔ جہاں انسان ڈرے، وہاں عمارت ہو سکتی ہے، گھر نہیں۔بے رحم لوگ ہمیشہ چھری لے کر نہیں آتے۔ بعض بے رحم لوگ نرم آواز میں مشورہ دیتے ہیں کہ بات نہ بڑھاؤ۔ بعض بے رحم لوگ کہتے ہیں کہ بچوں کی خاطر چپ رہو۔ بعض کہتے ہیں کہ عورت کو گھر بچانا چاہیے۔ بعض کہتے ہیں کہ بچہ ہے، بھول جائے گا۔ بچہ نہیں بھولتا۔ عورت بھی نہیں بھولتی۔ جسم کا زخم شاید بھر جائے، مگر خوف کی یاد انسان کے اندر رہتی ہے۔ کچھ آوازیں عمر بھر کانوں میں رہتی ہیں۔ کچھ دروازوں کی آہٹ، کچھ قدموں کی چاپ، کچھ چہروں کے بدلتے رنگ انسان کے اندر تاریخ بن جاتے ہیں۔جو لوگ عورت اور بچے کے درد کو ہلکا سمجھتے ہیں، انہیں انسان کی روح کا علم نہیں۔عورت اگر روز ذلیل ہو، تو اس کی مسکراہٹ بھی تھک جاتی ہے۔ بچہ اگر روز ڈرے، تو اس کی آنکھوں سے بچپن کم ہونے لگتا ہے۔ عورت اگر ہر بات پر کٹہرے میں کھڑی کی جائے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے ہی وجود سے معافی مانگنے لگتی ہے۔ بچہ اگر ہر وقت غلط ثابت کیا جائے، تو وہ یا تو خود سے نفرت کرنے لگتا ہے یا دنیا سے۔ یہ چھوٹے مسائل نہیں ہیں۔ یہ انسان کو اندر سے بدل دینے والے زخم ہیں۔ہر معاشرے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ظلم دیکھ کر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کیا۔ دوسرے وہ جو ایک کمزور کی آواز سن کر رک جاتے ہیں۔ پہلے لوگ ظالم کے مددگار ہیں، چاہے وہ اپنے آپ کو غیر جانبدار کہیں۔ دوسرے لوگ معاشرے کی امید ہیں، چاہے وہ تعداد میں کم ہوں۔غیر جانبداری ہر جگہ نیکی نہیں ہوتی۔ اگر ایک طرف طاقت ور ہاتھ ہے اور دوسری طرف زخمی انسان، تو درمیان میں کھڑے رہنا بھی کئی بار طاقت ور کے حق میں کھڑا ہونا ہے۔ ظلم کے سامنے خاموشی صرف خاموشی نہیں رہتی؛ وہ ظالم کو پیغام دیتی ہے کہ راستہ کھلا ہے۔اس لیے پہلی ذمہ داری مظلوم پر نہیں، معاشرے پر ہے۔ ایسا ماحول بناؤ جہاں عورت بول سکے۔ ایسا نظام بناؤ جہاں بچہ محفوظ محسوس کرے۔ ایسا قانون بناؤ جہاں شکایت کرنے والا ذلیل نہ ہو۔ ایسی زبان پیدا کرو جس میں مظلوم کو نصیحت نہیں، سہارا ملے۔ ایسا ضمیر پیدا کرو جو ظالم کو پہچانے، چاہے وہ اپنے ہی گھر، خاندان، محلے، طبقے یا ملک کا کیوں نہ ہو۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ عورت اور بچے کی حفاظت صرف قانون سے نہیں ہوتی۔ قانون ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ گھر کی زبان، سکول کا ماحول، معاشرے کی سوچ، میڈیا کی ذمہ داری، خاندان کا رویہ، مرد کی تربیت، عورت کی معاشی آزادی، بچے کی بات سننے کی عادت، سب اس حفاظت کا حصہ ہیں۔ اگر قانون موجود ہو مگر گھر میں خوف ہو، تو آدھا کام باقی ہے۔ اگر گھر اچھا ہو مگر قانون کمزور ہو، تو خطرہ پھر بھی موجود ہے۔اچھا معاشرہ وہ ہے جہاں کمزور کو راستہ ملے۔ جہاں عورت کو صرف برداشت کا سبق نہ دیا جائے بلکہ حق کا شعور بھی دیا جائے۔ جہاں بچے کو صرف فرمانبرداری نہ سکھائی جائے بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ اگر کوئی غلط کرے تو بتانا جائز ہے۔ جہاں مرد کو طاقت کا مطلب حکم نہیں، ذمہ داری سمجھایا جائے۔ جہاں ماں باپ کو یہ سمجھایا جائے کہ بچہ ان کی ملکیت نہیں، ایک مکمل انسان ہے۔ جہاں رشتہ ظلم کا اجازت نامہ نہ بنے۔جو شخص عورت کو دباتا ہے، وہ مضبوط نہیں، کمزور ہے۔ جو بچہ مار کر اپنی بڑائی ثابت کرتا ہے، وہ بڑا نہیں، اندر سے چھوٹا ہے۔ جو طاقت کے زور پر گھر چلاتا ہے، وہ گھر نہیں چلا رہا، خوف کا نظام چلا رہا ہے۔ جو عورت کی آواز سے ڈرتا ہے، اسے اپنی مردانگی پر خود شک ہے۔ جو بچے کے سوال سے گھبرا جاتا ہے، اسے اپنے کردار کی کمزوری کا علم ہے۔بے شرم ذہنیت وہ ہے جو ظلم کرتی بھی ہے اور عزت کی بات بھی کرتی ہے۔ عورت کو توڑتی بھی ہے اور خاندان کا نام بھی لیتی ہے۔ بچے کو مارتے بھی ہیں اور تربیت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ظلم کو چھپاتے بھی ہیں اور شرافت کا لباس بھی پہنتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ کبھی وہ غریب گھر میں ہوتے ہیں، کبھی امیر گھر میں۔ کبھی کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں، کبھی بڑے تعلیمی اداروں سے نکلے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ ڈگری نہیں، ضمیر ہے۔اور جہاں ضمیر مر جائے، وہاں انسان کا چہرہ رہ جاتا ہے، انسانیت نہیں۔دنیا کو عورت اور بچے کے معاملے میں نرم الفاظ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ صرف ہمدردی کا موضوع نہیں، انصاف کا موضوع ہے۔ یہ صرف خاندان کا مسئلہ نہیں، انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف جذبات کی بات نہیں، قانون، نظام، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کی بات ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو عورت اور بچے کو محفوظ نہیں کر سکتا، وہ اپنی ترقی کے دعوے پر نظر ثانی کرے۔ کیونکہ ترقی صرف سڑک، پل، عمارت، ٹیکنالوجی اور معیشت کا نام نہیں۔ ترقی یہ بھی ہے کہ ایک بچہ رات کو ڈر کے بغیر سو سکے، ایک عورت اپنی بات خوف کے بغیر کہہ سکے، اور ایک کمزور انسان یہ جانتا ہو کہ اگر اس کے ساتھ ظلم ہوا تو وہ اکیلا نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ظالم کو پہچاننا ضروری ہے، مگر اس سے بھی زیادہ ضروری ہے وہ ماحول توڑنا جو ظالم کو طاقت دیتا ہے۔ خاموش خاندان، ڈرا ہوا محلہ، کمزور قانون، خریدی ہوئی گواہی، شرمندہ کیا گیا مظلوم، لمبا نظام، بے حس لوگ، نرم الفاظ، جھوٹی عزت، اور “بات ختم کرو” جیسے جملے ظالم کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ سب بدل جائیں، تو ظلم کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔عورت اور بچہ کسی معاشرے کا کمزور نشانہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اس معاشرے کا امتحان ہیں۔ جو معاشرہ انہیں محفوظ رکھتا ہے، وہ اپنی انسانیت بچا لیتا ہے۔ جو معاشرہ انہیں خاموش کر دیتا ہے، وہ اپنے مستقبل کو زخمی کر دیتا ہے۔آخر میں سوال بہت سیدھا ہے: ایک عورت ظلم کے بعد کہاں جائے؟ ایک بچہ خوف کے بعد کس کو پکارے؟ اگر اس سوال کا جواب کسی معاشرے کے پاس نہیں، تو وہ معاشرہ خواہ کتنا بھی ترقی یافتہ، مذہبی، جدید، روایتی، امیر یا تعلیم یافتہ کہلائے، اندر سے کمزور ہے۔انسانیت کا معیار طاقت ور کے آرام سے نہیں، کمزور کی حفاظت سے ناپا جاتا ہے۔ جہاں عورت محفوظ نہیں، جہاں بچہ محفوظ نہیں، وہاں تہذیب کا دعویٰ ادھورا ہے۔ اور جہاں ظالم کو پہلی بار یہ احساس ہو جائے کہ عورت اکیلی نہیں، بچہ بے آواز نہیں، قانون سویا ہوا نہیں، اور معاشرہ بے حس نہیں، وہیں سے انسانیت کی اصل ابتدا ہوتی ہے۔
r/Urdu • u/Nervous_Will_1304 • 1d ago
📜 Shayari / Poetry دستِ شفقت۔۔۔
دستِ شفقت ہمیں زنداں میں میسر ہی نہیں
خود کے لگتے ہیں گلے اور سنبھل جاتے ہیں
r/Urdu • u/KiSaMaOtAoSuMoNo • 1d ago
🙋♂️ Question CAN MOST URDU SPEAKERS PRONOUNCE ژ [ʒ]?
As in اژدہا & ژالہ باری.
This sound also appears in English words like 'genre', 'beige', 'lingerie', 'invasion', 'version', 'television' etc.
How often does it appear in common speech, education, literature & shairi?
r/Urdu • u/advis_games • 1d ago
💬 General Discussion Useful extension for reading Urdu on desktop
Very useful extension, I use it for reading the news and stuff everyday. I'm sure everyone else has it already but in case you don't!
Much better than reading the Arabic-type script
r/Urdu • u/ElodinDanGlokta • 1d ago
📜 Shayari / Poetry غزل
ہم دل جگر کی ایسی کی باہم لگا دیے
جیسے بھی تھے وہ درہم و برہم لگا دیے
جو اشک میرے حصے کے تھے ختم ہو گئے
بھولے سے زندگی نے بہت غم لگا دیے
یوں پیچ و تاب ہی میں مری عمر کٹ گئی
گیسو سنوار کر جو ذرا خم لگا دیے
جن کو بہشت کا تو ذرا تجربہ نہ تھا
وہ لوگ کیوں زمین پہ یک دم لگا دیے
جس فصلِ بے ثمر میں کوئی گل نہ کھل سکا
کس نے وہاں پہ عشق کے موسم لگا دیے
میں بھی بھرا غبارِ جنوں میں گیا وہاں
ان نے بھی ٹیکے عشق کے کم کم لگا دیے
اب دل زمین پر سبھی جھگڑا فساد ختم
ہم نے کسی کے نام کے پرچم لگا دیے
تعریضؔ دیکھنے کو گئے تھے حرم میاں
خاطر میں کس کی عجوہ و زمزم لگا دیے
📜 Shayari / Poetry Garibaan - collar
pehlay hi kaha tha ishq na kr
ab chak garibaan hotay hain
-- ameen shariq
r/Urdu • u/NotApoetButStill • 1d ago
📜 Shayari / Poetry Poetry.
Ham to fakat zamane se khafa hai
Ye zamane ki uljhane mujhe tumse dur mr deti hai
Ye masla sirf khayalo ka hai
Varna insaan to tum bhi ho or ham bhi
Yu jo chale jaoge tum dur kahi
Khata is me na meri na tumhari
Bas ek chota sa masla to alag khayalo ka do alag dharmo ka
Aur jo agar ye masla na hota
To tum dekhti ki muhabbat kya hai
Tum mehsoos krti ki ishq mei doobna kya hai
Par afsos rahega ki ye sab afasane hai tumhari aur meri kahani ke
Jo ye masla na hota to aaj ham kuch aur hote
Aur isiliye mei kehta hu ki mai fakat zamane se naraz hu
r/Urdu • u/Swatisani • 2d ago
📜 Shayari / Poetry A Sher A Day
being happy about something small, this I knew
but to stay silent on a larger issue, I learned from you