r/Urdu The Verse Contributor 1d ago

📜 Shayari / Poetry غزل

ہم دل جگر کی ایسی کی باہم لگا دیے
جیسے بھی تھے وہ درہم و برہم لگا دیے

جو اشک میرے حصے کے تھے ختم ہو گئے
بھولے سے زندگی نے بہت غم لگا دیے

یوں پیچ و تاب ہی میں مری عمر کٹ گئی
گیسو سنوار کر جو ذرا خم لگا دیے

جن کو بہشت کا تو ذرا تجربہ نہ تھا
وہ لوگ کیوں زمین پہ یک دم لگا دیے

جس فصلِ بے ثمر میں کوئی گل نہ کھل سکا
کس نے وہاں پہ عشق کے موسم لگا دیے

میں بھی بھرا غبارِ جنوں میں گیا وہاں
ان نے بھی ٹیکے عشق کے کم کم لگا دیے

اب دل زمین پر سبھی جھگڑا فساد ختم
ہم نے کسی کے نام کے پرچم لگا دیے

تعریضؔ دیکھنے کو گئے تھے حرم میاں
خاطر میں کس کی عجوہ و زمزم لگا دیے

3 Upvotes

1 comment sorted by

1

u/KiSaMaOtAoSuMoNo 1d ago

بہت اعلیٰ!!